منگلورو18/مارچ (ایس او نیوز) سردی زکام اور انفلوئنزا بخار جیسی بیماری کا سبب بننے والے وائرس فیملی کی ایک بگڑی ہوئی اولاد’کووِڈ۔19‘ یا ’نوویل کورونا وائرس نے دنیا بھر میں ایسا اودھم مچا رکھا ہے کہ عوامی زندگی کے تما م شعبہ جات متاثر ہوگئے ہیں۔ ایئر پورٹ،بازار، تفریحی مقامات اور تما م عبادت گاہوں پر ایک قسم کی دہشت طاری ہوگئی ہے۔
طیاروں کی پروازیں معطل: اس عالمی وباء کے خوف دنیا سے کئی ممالک نے احتیاطی طور پراپنے یہاں سے طیاروں کے اڑان بھرنے یا باہر سے آنے پر پابندی لگارکھی ہے۔ گویا عوام کو اپنے اپنے مقامات پر قید کردیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان کی صورتحال کچھ اس سے مختلف نہیں ہے۔ تازہ اقدام کے طور پر منگلوروا یئر پورٹ سے کئی طیاروں کی پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔ اس میں ایئر انڈیا ایکسپریس کی بحرین اور کویت جانے والے طیارے 31مارچ تک معطل رہیں گے جبکہ دمام سعودی عربیہ اور دوحہ قطرکے لئے پروازوں کو 28مارچ تک منسوخ کردیا گیا ہے۔
ایئر انڈیا کے منگلورو میں مقیم ذمہ دار سنیل بھٹ نے بتایا کہ ہندوستانی حکومت نے دنیا کے کئی ممالک کے لئے ہوائی سفر کوپہلے سے ہی معطل کردیا ہے اور تازہ حکم نامے کے مطابق اب سعودی عربیہ، کویت، بحرین اور قطر کے لئے طیاروں کی اڑانیں معطل کردی گئی ہیں۔اسی طرح اسپائس جیٹ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ صرف دبئی اور منگلورو کے درمیان اس کے طیارے سفر کررہے ہیں باقی تمام پروازوں کو معطل کردیا گیا ہے۔
قطر سے لوٹنے والی مشتبہ مریض: اڈپی سے ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق منگل کے دن قطر سے لوٹنے والی ایک خاتون سمیت پانچ مریضوں کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے شبہ میں ڈسٹرکٹ اسپتال میں جانچ اور علاج کے لئے داخل کیا گیا ہے۔اور ان کے سیمپلس جانچ کے لئے شیموگہ میں واقع لیباریٹری میں بھیج دئے گئے ہیں۔ جبکہ ضلع شمالی کینرا کے ڈی سی نے بتایاہے کہ ابھی تک ضلع میں کسی بھی شخص کے کوروناوائرس سے متاثر ہونے کی بات ثابت نہیں ہوئی ہے۔
جمعہ کی نمازاور خطبہ مختصر کریں: کورونا وائرس کی دہشت نے مذہبی رسوم اور اجتماعی عبادات کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ پید اکردی ہے۔ سعودی عربیہ سمیت کئی عرب ممالک میں مساجد میں باجماعت نماز کو معطل کیا گیا ہے۔ صرف مسجد حرم اور مسجد نبوی کو تاحال اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ہندوستان میں بڑے بڑے مندروں اور گرجا گھروں میں بھی عوامی اجتماع پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ادھر اڈپی ضلع کے قاضی بیکل ابراہیم موصلیارنے ائمہ اور خطیبوں کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے گزارش کی ہے کہ احتیاطی طور پر جمعہ کی نمازاور خطبہ کو مختصر کردیں اور اجتماعی مذہبی سرگرمیوں سے گریز کریں۔انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان کے ذریعے عوام سے درخواست کی ہے کہ سرکاری طور پر اس وباء پر قابو پانے کے لئے جو بھی ہدایت دی جارہی ہیں اس پر پوری طرح عمل کریں اور پوری ذمہ داری کے ساتھ سرکاری قوانین کی پابندی کریں۔
عبادت گاہوں میں ہجوم پر پابندی: ادھر جنوبی کینرا ضلع کی ڈپٹی کمشنرسندھو پی روپیش نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کے لئے گرجا گھروں، مندروں، مساجد اور دیگر عباد ت گاہوں میں عوامی ہجوم اور اجتماعی سرگرمیوں پر بطور احتیاط پابندی رہے گی۔عوام کوچاہیے کہ ایک دوسرے سے رابطے کے دوران مناسب فاصلہ بنائے رکھیں۔ مذہبی مقامات کے قریب ضلع انتظامیہ کی جانب سے ہیلپ ڈیسک‘ کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ عوام کی رہنمائی کی جاسکے۔
نجی دواخانوں پرلگ رہا ہے تالا: بنگلورو سے ملنے والی تازہ جانکاری کے مطابق کلبرگی میں فوت ہونے والے مریض کا علاج کرنے والے ایک 63 سالہ ڈاکٹرکے کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور ا س کی جانچ رپورٹ پوزیٹیو نکلنے کے بعدبنگلورو، ہاسن، کلبرگی، داونگیرے کے علاوہ ساحلی علاقوں کے کئی مقامات پر ڈاکٹروں نے اپنے نجی دوا خانے اور منی نرسنگ ہومس پر تالا لگادیا ہے۔کیونکہ مریضوں کا معائنہ کرتے وقت ڈاکٹروں کے لئے تین میٹر کا فاصلہ بنائے رکھنا ناممکن ہوتا ہے اور اس وجہ سے مشتبہ یا متاثرہ مریض کے قریب جانے اورڈاکٹروں کے خود ہی متاثر ہونے کے امکانات بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں۔
فی الحال 11مریضوں کی ہوئی تصدیق: اس وقت کرناٹکا میں کورونا وائرس وباء کی جو صورتحال ہے اس کے مطابق فی الحال 11مریضوں کی جانچ رپورٹ پوزیٹیو آئی ہے جس میں کرناٹکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہونے والے پہلے شخص کی بیٹی بھی شامل ہے۔وزیر صحت سری راملو نے بتایا کہ جانچ رپورٹ پوزیٹیو نکلنے کے تازہ معاملے میں متاثرہ خاتون بنگلورو کی رہنے والی ہے اوروہ حال ہی میں دبئی سے لوٹی تھی جسے اس کے اپنے گھر میں محدود رکھا گیاتھا۔ اب جانچ رپورٹ ملنے کے بعد اسے خصوصی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
ریلوے ڈپارٹمنٹ نے بھی پلیٹ فارمس پر بھیڑ بھاڑ کم کرنے کی نیت سے مسافروں کو الوداع کرنے کے لئے ساتھ آنے والے افراد پر لاگو ہونے والی پلیٹ فارم ٹکٹ کی قیمت 10روپے سے بڑھا کر 50روپے کردی ہے۔جبکہ عوامی پارک، ساحلوں اور دیگر تفریحی مقامات پر مجمع کو روکنے کے لئے ضلع انتظامیہ اور پولیس کا عملہ پوری طرح سرگرم ہوگیا ہے۔